کیا نبی نے حفصہ كے دن بی بی ماریہ سے قربت رکھی تھی؟

کیا نبی نے حفصہ كے دن بی بی ماریہ سے قربت رکھی تھی؟

کیا نبی نے حفصہ كے دن بی بی ماریہ سے قربت رکھی تھی؟ 1920 1080 The Office Of His Eminence Sheikh al-Habib

سوال

سورہ تحریم کی پہلی تین آیات کی صحیح تفسیر کیا ہے ، جیسا کہ ہمیں پتہ چلتا ہے کہ تفسیر البرہان میں ہیں کہ اللہ کے رسول نے حفصہ کے دن بی بی ماریہ کے ساتھ جماع کیا، جبكہ وہ كنیز تھی؟ اور جب حفصہ کو اس كا پتا چلا تو وہ ناراض ہوئی اور اس نے مخالفلت كی، جس سے رسول کو شرمندگی محسوس ہوئی اور آپ نے قسم کھا ئی کہ وہ ماریہ کو اپنے لئے حرام قرار دیں گے، جس کی وجہ سے اللہ نے یہ آیتیں اس پر نازل کیں۔

مجھے ان روایات میں حفصہ اور عائشہ کی مضبوط موجودگی کا احساس ہوتا ہے کیونکہ ہم مسلمان اللہ کے رسول سے اس قسم کی جارحانہ صفات کو مسترد کرتے ہیں۔


جواب

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، جو بڑا ہی مہربان، اور نہایت رحم کرنے والا ہے .
درود و سلام ہو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہل بیت علیہم السلام پر، اللہ ان کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ان کے دشمنوں پر اللہ کا عتاب ہو.

یہ واقعہ مختلف ذرائع سے وارد ہوا ہے اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کو وضاحت کرتا ہے۔ مستند ترین روایت شیخ القمی (رحمہ اللہ) نے نقل کی ہے۔

جب حفصہ (اللہ لعنت ہو اس پر ) کے دن تھا ، تو وہ اپنی كسی حاجت کے نحت كہی چلی گئی اور اس حاجت کو مجمع البیان كی ایک روایت میں بیان کیا گیا ہے۔ ہمارے نقطہ نظر سے ، ہم القمی کے بیان کردہ روایت کے علاوہ تمام حصوں كو نہیں لیتے جو وضاحت پیش کرتا ہے۔

بیشک اللہ کے رسول نے اپنے دنوں کو اپنی بیویوں کے درمیان تقسیم کئے تھے ، اور جب حفصہ کا دن تھا ، اس نے نبی سے کہا کہ:

مجھے اپنے والد سے كچھ ضروری كام ہے

لہذا مجھے ان سے ملاقات کی اجازت دیں“۔چنانچہ انہوں نے اسے اجازت دی اور جب وہ چلی گئی تو آپ نے اپنی كنیز ماریہ قبطیہ كو طلب کیا۔

اللہ کے رسول نے اس پر کوئی ظلم نہیں کیا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی جرم کیا اور در اصل اسی نے اپنے والد کے پاس جانے کی اجازت طلب کی جس پر اللہ کے رسول نے اجازت دی۔ اس کے بعد ، رسول نے اپنی كنیز ماریہ کو طلب کیا ، جو ان کا حق تھا۔

جہاں تک نبی نے ماریہ کو اپنے لئے حرام قرار دیا تھا ، یہ رسول کی اس انتہائی حیا كی وجہ سے تھا ، اور اس سے آپ کو اس بات كا پتہ چلتا ہے کہ حفصہ (اللہ لعنت كرے اس پر) نے اللہ کے پاک اور معزز رسول کو كتنی تكلیف پہنچائی جبکہ آپ تمام مخلوقات میں انتہائی با حیا اور انصاف پسند ہے۔

آپ اس حد تک اپنی بیویوں کے مابین عادل کیوں نہیں ہوسکتے تھے، جن كی بدکاری كے سبب سے جو تكلیف برداشت كرنا پڑی اس کے باوجود آپ ان کی عزت کرتے تھے ؟ ماریہ سے ممانعت الہی حکم نہیں تھا بلکہ یہ صرف زبانی طور پر ممنوع تھی۔ آپ نے خود کو اس چیز سے منع کیا جس سے آپ نے پرہیز کیا اور پھر یہ قرآنی اظہار اس بات کا واضح ثبوت پیش کرتا ہے کہ رسول کی اپنی بیویوں کے مابین انصاف کے نفاذ کے سلسلے میں كسی ایسی چیز کے اعزاز میں جس کا الہی قانون میں کوئی حق نہیں تھا ، اور نہ ہی اسے خوش کرنے میں کوئی اہمیت تھی نہ جبكہ وہ یہ دعوی کرتی ہے کہ رسول نے اس کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ در اصل ، اسے اللہ کے رسول کو راضی ركھنا چاہئے۔

لہذا ، اللہ سبحانہ وتعالی نے اس آیت کو اپنے نبی پر رحمت کے طور پر نازل کیا ، اور یہ ہمیں اس عداوت اور بے چارگی کی نشاندہی کرتا ہے جو آپ كو تکلیف پہونچانے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ اور یہاں حکمت الہی كا اظاہر عوتا ہے کیونکہ اگر پیغمبر کی حرمت نہ ہوتی، تو ہم عائشہ اور حفصہ کی مزمت میں اس سورہ کے نزول کو نہ پاتے۔ اور یہاں سے ہمیں پتہ چلتا ہیں کہ یہ ممانعت کسی مسئلے کی تصدیق میں حكمت اللہ كے تخت نازل ہوئی ہے۔

یہاں القمی کا بیان وضاحت کرتا ہے کہ رسول كو حیا مانع ہوئی حالانکہ آپ نے جو کیا وہ آپ كا حق تھا ، آپ تمام انبیاء کے سردار ہیں اور چشمہ حیا ہیں۔

نیز جب آپ روایت كو پڑھ لیں، تو آپ کو اس واقعے کو کسی دوسرےنقطہ نظر سے دیكھوں گے، كہ اس منافقہ کے لئے امتحان اور اختیار تھا جس میں وہ ناکام ہوگئی ، تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

علی بن ابراہیم القمی بیان كرتے ہیں كہ اس آیت كے نزول كا سبب یہ تھا رسول اللہ اپنی ایک بیوی کے گھر میں تھا ، اور ماریہ قبطیہ اس کی خدمت کررہی تھی ، اور وہ حفصہ كا دن تھا، اور حفصہ كسی ضرورت كے تحت باہر گئی تھی۔ رسول اللہ ماریہ نے ماریہ كو بلایا، اور جب حفصہ كو اس كا پتہ چلا تو وہ غضبناك ہوئی اور جب رسول اللہ سے ملاقات ہوئی تو اس نے كہا

یا رسول اللہ! یہ میرا دن ہے ، اور (آپ کو ) میرے گھر اور میرے بستر پر ہونا چاہئے؟“ تو رسول اللہ كو شرمندگی محسوس ہوئی، اور آپ نے فرمایا: رکو ، میں نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام كیا، اس کے بعد کبھی اس کی طرف نہیں بڑھوں گا ، اور میں تمہیں ایک راز بتاؤں گا۔ لیکن ، اگر تو نے (کسی کو) اس سے آگاہ كیا تو تجھ پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔“ تو اس نے کہا ، ”ہاں ، وہ کیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ” میرے بعد ابوبکر خلافت کریگا ، پھر اس کے بعد تیرا باپ، عمر ہوگا۔“ اس نے سوال كیا: ”آپ كو کس نے آگاہ کیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”اللہ نے

حفصہ نے عائشہ کو اس کے بارے میں بتایا ، اور عائشہ نے ابوبکر کو اطلاع دی۔ چنانچہ ابوبکرعمر کے پاس گیا اور اس سے کہا: ” عائشہ نے مجھے حفصہ سے یہ خبر دی ہے اور میں اس پر اعتبار نہیں کرتا لہذا تو حفصہ سے پوچھ۔“

عمر حفصہ کے پاس گیا اور اس سے پوچھا: ”وہ کیا بات ہے جس سے تو نے عائشہ کو آگاہ کیا ہے؟“ اس نے تردید کی اور کہا: ”میں نے اس سے کچھ نہیں کہا ہے۔“ تو عمر نے کہا: اگر یہ سچ تھا تو ہمیں بتا تاکہ ہم اس میں جلد کریں۔ اس نے کہا: ”ہاں، رسول اللہ نے مجھ سے یہ بیان كیا ہے۔“ پھر وہ چاروں جمع ہوئے (اور اس پر متفق ہوئے) کہ وہ رسول اللہ کو زہر دیں گے۔
تفسیر القمی، ج 2، ص 376

دفتر شیخ الحبیب

The Office Of His Eminence Sheikh al-Habib