مولا علی ؑ ۲۰ سال سے زیادہ عرصه تک خاموش کیوں رہے جب کہ ان کے حقوق کو غصب کیا گیا تھا؟

مولا علی ؑ ۲۰ سال سے زیادہ عرصه تک خاموش کیوں رہے جب کہ ان کے حقوق کو غصب کیا گیا تھا؟

مولا علی ؑ ۲۰ سال سے زیادہ عرصه تک خاموش کیوں رہے جب کہ ان کے حقوق کو غصب کیا گیا تھا؟ 1920 1080 The Office Of His Eminence Sheikh al-Habib

سوال

مولا علی ؑ ۲۰ سال سے زیادہ عرصه تک خاموش کیوں رہے جب کہ ان کے حقوق کو غصب کیا گیا تھا؟


جواب

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، جو بڑا ہی مہربان، اور نہایت رحم کرنے والا ہے .
درود و سلام ہو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہل بیت علیہم السلام پر، اللہ ان کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ان کے دشمنوں پر اللہ کا عتاب ہو.

یہ ایک وسیع پیمانے اور عام طور پر پھیلی ہوی غلط فہمی ہے کہ امِير المومنین علی ابن ابی طالبؑ نے حقوق غصب ہونے کے بعد خاموشی اختیار کی تھی ۔ وہ خاموش نہیں تھے، بلکہ انہوں نے صبر کا مظاہرہ کیا تھا، جیسا کہ متعدد تاریخی بیانات تصدیق کرتے ہیں۔

بہت ساری روایات بیان کرتی ہیں کہ امام علی علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شہادت کے فورا بعد ہی سے اپنے حقوق واپس لینے کی کوشش کی۔ یہ ابوبکر اور عمر کی حکومت کو ختم کرنے کے لئے حامیوں کو جمع کرنے کے ذریعہ ، عوام میں تقریر کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت ؑ کے ساتھ امت کی غداری اور ظالم حکومت کی مخالفت کے ذریعے۔

مثال کے طور پر مشہور تابع سلیم ابن قیس الھلالی العامری کی کتاب میں ایک طویل روایت بیان ہے کہ یوم سقیفہ کو (جب منافقین کے گروہ نے اقتدار غصب کیا):

جب رات آئی تو مولا علی ؑ نے جناب زہرا سلام اللہ علیہا کو خچر پر بٹھایا اور امام حسن اور امام حسین ؑ کو ساتھ لیا اور بدر کے فوجیوں اور مہاجرین اور انصار میں سے ہر گھر گئے اور اپنا حق واضح کیا اور لوگوں سے مدد مانگی۔ ان میں سے کسے نے ان کی مدد نہیں کہ سوائے چالیس لوگوں کے۔ لھٰذا آپ نے سب کو اگلی صبح اپنے سر منڈوانے اور اپنے اصلحے لیکر ان کی بیعت کرنے لے کئے بلایا۔ لیکن صبح ہوتے ان میں سوائے چار لوگوں کے کوئی نہیں آیا۔

تو میں (سلیم) نے سلمان سے پوچھا: وہ چار کون تھے؟
انہوں نے کہا: “میں ، ابوذر ، مقداد اور زبیر ابن عوام۔” پھر علی علیہ السلام اس کے بعد رات کو ان کے پاس گئے اور انہیں بلایا ، اور انہوں نے کہا: “ہم آپ کو کل صبح ملیں گے” ، لیکن ہمارے سوا کوئی نہیں آیا۔ پھر وہ تیسری رات ان کے پاس گئے، اور ہمارے سوا کوئی نہیں آیا۔
سلیم ابن قیس الھلالی متوفی ۱۴۳۰ کتاب سلیم ابن قیس الھلالی قم ، دیلمہ ص ۱۴۳ تا ۱۶۳

بعض روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ مولا علیؑ نے براہ راست ایک محفل میں ایک موقع پر ابوبکر اور عمر کو ان کا حق غصب کرے پر ملامت کی۔ اس واقعے کی اطلاع ہمارے ایک عالم، سید محمد رضا الکمالی الاسترآبادی (چودہویں صدی کے عالم) نے اپنی کتاب السوارم الہسیما فی تاریخِ فاطمہ زہرا میں درج کیا ہے، جس میں وہ ایک دوسری کتاب کشف اللئالی سے بیاں کرتے ہیں جس کے مصنف ہمارے ایک اور دوسرے عالم شیخ صالح ابن عبد الوہاب ابن ارنداس ہے (نویں صدی کے عالم):

اے غدار اور بد کردار لوگوں اے غلیظ اور ناپاک نطفے اے وہ جانور جو جیسا چاہتے ہیں چلتے ہے ، تم اپنے نبی ؐ کے راستہ سے منحرف ہو گئے ۔ اس سے تمہاری نیت منافقت تھی۔ اور تم نے جہالت اور تفرقہ پیدا کیا۔
الاصفہانی ، محمد حسن المیرجہانی متوفی ۱۳۳۸ھجری مستدرک نہج البلاغہ تھران ج ۱ ص ۲۸۵

لہذا، امامؑ نے ناانصافی کی صورت میں خاموشی اختیار نہیں کی۔ اب ہم جائزہ کریں کہ انہوں نے کیوں فوجی انقلاب ریعے ظالم حکومتوں کو ختم کیوں نہیں کیا اور اپنا غصب شدہ حق واپس کیوں نہیں لیا-

اس کی نبیادی وجہ اس معاملے سے متعلق تاریخی روایات اور شواہد سے اخذ کی جاسکتی ہے ۔ امام علیؑ کو ﷲ کے رسولؐ نے پہلے سے ان ناانصافیوں کے بارے میں جن کا سامنا ان کو آپؐ کی وفات کے بعد کرنا پڑہے گا پیشن گوئی کی تھی ۔ مزید یہ کہ رسول ﷲ نے ان کو صبر کرنے کا حکم دیا اور اپنے دشمنوں کے خلاف خروج کرنے سے منع فرمایا جب تک کہ ایک خاص تعداد میں افراد کو جمع نہ کریں اور ان کی حمایت ان کے ساتھ نہ ہو۔

بغیر کسی بھی قسم کے شک وشبہ کے، امامؑ خود تنہا ہی اپنے دشمنوں کو شکست دینے کی قابلیت رکھتے تھے۔ لیکن، وہ ﷲ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کے پابند اور تابع تھے، اور اس عہد کے جو انہوں نے لیا تھا ۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ امام نے جبرا اپنے حقوق واپس نہیں لیئے۔

مثال کے طور پر، روایت ہے کہ امام صادقؑ سے پوچھا گیا کہ کیوں امام علیؑ نے ان تین ظالموں سے جنگ نہیں کی جنہوں نے آپ ؑ سے پہلے حکومت کی؟ جس پر انہوں نے فرمایا:

کیونکہ انہیں ان سے لڑنے کی اجازت نہیں تھی جب کہ ان کے پاس تین اهلِ ایمان کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا۔
القمی محمد ابن علی ابن حسین ابن بابویہ سن ۲۰۰۶ علل الشرائع بیروت دار المرتضی جلد ۱ ص ۱۴۹

جناب ام سلمہ زوجہ نبی بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ ﷲ کے رسولؐ امام علیؑ کو آگاہ کر رہے تھے ان واقعات کے متعلق جو کہ ان کی وفات کے بعد پیش ہونے والے ہیں، جس پر امام علی نے کہا:

میرے والدین آپ پر قربان اے اللہ کے رسول : جب ایسا ہو تو میرے لئے آپ کا حکم کیا ہے۔
جس پر ﷲ کے رسولؐ نے جواب دیا:
میں صبر کرنے کا حکم دیتا ہوں۔
اور انہوں نے یہ بات تین بار دہرائی۔

الطبرسی احمد ابن علی ۱۳۸۰ ھجری الاحتجاج قم: انتشارات السریف رضی ج ۱ ص ۲۵۷ تا ۲۵۸

كِتَاب سلیم ابن قیس الھلالی میں ایک طویل روایت میں درج ہے کہ، جمل کے معرکہ کے بعد، امام علیؑ کو أشعث بن قيس کے نام کے ایک فرد نے ان کے کوفہ کے قیام کے دوران یہ بات بتائی:

اے پسر ابو طالب، آپ کو کس چیز نے تلوار اٹھانے، تیم بن مرۃ کے بھائی ابو بکر، ابن عدی کے بیٹوں کے بھائی اور کعب کے بیٹے عمر اور امیہ کی اولاد میں عثمان جیسے لوگوں سےاپنے حقوق چھیننے سے روکا؟
آپ نی عراق وارد ہونے کے بعد کوئی تقریر نہیں کی، منبر سے اترنے سے پہلے ضرور کہا کہ: واللہ مجھے لوگوں پر ان سے زیادہ حق او ر ولایت حاصل ہے اور آنحضرت ؐ کے وفات کے بعد سے مسلسل میں مظلوم ہوں۔ تو آپ کو اس ظلم کے خلاف جنگ کرنے سے کیا مانع تھا؟

اس پر آپ نے جواب دیا:
اے ابن قیس، غور سے سننا۔ مجھے ان سے بزدلی کی وجہ سے یا اللہ سے ملاقات کو نا پسند کرنے سے یا یہ جان کر کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ اس دنیا سے بہتر ہے، نے نہیں روکا۔
مجھے جس شئی نے روکا وہ رسول اللہ ؐ کی طرف سے حکم اور میرا ان کا عہد تھا۔


اس کے بعد یہ روایت جاری رہی اور مولا علی ؑ نے فرمایا:
اور جب آنحضرتؐ کی رحلت ہوئی لوگ ابو بکر لعنت اللہ علیہ کی طرف مائل ہوئے اور اس کی بیعت کی جب کی میں ان کے غسل و کفن میں مشغول تھا۔

پھر میں قرآن جمع کرنے میں مشغول ہو گیا۔ تو میں نے عہد لیا کہ میں قرآن جمع کرنے سے پہلے اپنی عبا نہیں پہنوں گا۔
پھر میں نے فاطمہ اور اپنے بیٹے حسن اور حسین کو اہپنے ساتھ لیا اور اور انصار اور مھاجرین اور جنگ بدر میں شرکت کرنے والوں میں ہر ایک کے پاس گیا اور انہیں حق اور اپنی حمایت کی دعوت دی۔
ان میں سے کسی نے جواب نہیں دیا سوائے چار لوگوں کے: سلمان، ابو ذر، مقداد اور زبیر اور میرے گھر والوں میں سے کئی نہیں تھا جو میری مدد کرتا۔

اور جہاں تک ہمزہ کا سوال ہے وہ جنگ احد میں شہید ہو گئے تھے۔ اور جعفر جنگ معتہ کے دن شہید ہوئے تھے، اور میں دو بد اخلاق، اور نالائق یعنی عقیل اور عباس جیسے لوگوں کے ستھ رہ گیا تھا، جو حال ہی میں کافر ہو گئے تھے۔ تو دشمنوں نے مجھ پر ظلم کیا اور غالب ہو گئے۔

حدیث آگے بڑھتی ہے:
اے ابن قیس، قسم اس ذات کی جس نے دانہ کو شگافتہ کیا اور لوگوں کو خلق کیا اگر وہ چالیس افراد کہ جنہوں نے وعدہ کیا تھا وفادار ہوتے اور دوسری صبح سر مونڈا کر میرے پاس آتے اور اس سے پہلے کہ مجھ سے جبرا عتیق یعنی ابو بکر بیعت لی گئی میں اس کے خلاف اٹھتا اور قتل کر دیتا۔

سلیم ابن قیس الھلالی متوفی ۱۴۳۰ کتاب سلیم ابن قیس الھلالی قم دیلمہ ص ۲۱۳ تا ۲۲۰

دفتر شیخ الحبیب

The Office Of His Eminence Sheikh al-Habib