کیا رسول اللہ اور ائمہ كے پاس علم غیب ہے؟

کیا رسول اللہ اور ائمہ كے پاس علم غیب ہے؟

کیا رسول اللہ اور ائمہ كے پاس علم غیب ہے؟ 1920 1080 The Office Of His Eminence Sheikh al-Habib

سوال

کیا رسول اللہ اور ائمہ كے پاس علم غیب ہے [Ilm al-Ghayb]؟


جواب

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، جو بڑا ہی مہربان، اور نہایت رحم کرنے والا ہے
درود و سلام ہو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہل بیت علیہم السلام پر، اللہ ان کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ان کے دشمنوں پر اللہ کا عتاب ہو.

تمام انبیاء اور ائمہ (علیہم السلام) كے پاس ان كے درجے كے مطابق كچھ علم غیب ہوتا ہے۔

کچھ لوگ شیعوں پر یہ الزام لگا کر بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ خدا كا شریك قرار دیتے ہیں اس عقیدہ تحت کہ مخلوقات بھی علم غیب جانتی ہیں۔ لیكن ، یہ غلط اور بے بنیاد الزام ہے۔

قرآن مجید نے اس كے ممكن ہونے کو بیان کیا ہے کہ خدا اپنے رسول کو علم غیب عطا کرسکتا ہے:

(وہ) عالم الغیب ہے ، اور اپنے غیب سے کسی کو مطلع نہیں کرتا ہے ، سوائے جس رسول كو پسند كر لے
قرآن: 72: 27-28

کوئی بھی مسلمان یہ دعویٰ نہیں كر سكتا کہ خدا نبی اعظم اور رسول اللہ ، حضرت محمد ابن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) كو پسند نہیں كرتا۔ لہذا ، حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقعتا خدا کی طرف سے علم غیب حاصل کرتے ہیں

البتہ یہ شیعہ علماء کے مابین متنازعہ ہے کہ کس قسم کی ہے ، یا كس حد تک علم غیب ہے جو حضرت محمد اور ائمہ (علیہم السلام) کو عطا كرتا ہے۔

بہر حال ، شیعوں کا عقیدہ ہے کہ انبیاء اور ائمہ، خدا (عزوجل)کے بندے کے سوا کچھ نہیں اور وہ خود كی بناء پر کوئی علم نہیں رکھتے ہیں۔ ان کا علم اور اس كے حصول كی قابلیت انہیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے ، اور یہ کہ خدا ہی ہے ، جو در اصل، ہر چیز كا قطعی عالم الغیب كیونكہ وہ (عزوجل) قطعی طور پر خود مختار ہے ۔

دفتر شیخ الحبیب

The Office Of His Eminence Sheikh al-Habib