کیا علی (علیہ السلام) نے اعلانیہ طور پر اپنے دشمنوں پر لعنت كی؟

کیا علی (علیہ السلام) نے اعلانیہ طور پر اپنے دشمنوں پر لعنت كی؟

کیا علی (علیہ السلام) نے اعلانیہ طور پر اپنے دشمنوں پر لعنت كی؟ 1600 1067 The Office Of His Eminence Sheikh al-Habib

سوال

کیا امام علی )علیہ السلام( عائشہ اور اس کے والد اور اس کے اصحاب پر لعنت بھیجتے تھے؟ کیا انہوں نے اعلانیہ طور پر خطبہ جمعہ میں یا اس طرح كے مواقع پر کیا؟


جواب

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، جو بڑا ہی مہربان، اور نہایت رحم کرنے والا ہے .
درود و سلام ہو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہل بیت علیہم السلام پر، اللہ ان کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ان کے دشمنوں پر اللہ کا عتاب ہو.

جی ہاں ، امیر المومنین (علیہ السلام) نے متعدد مواقع پر اعلانیہ طور پر اس پر لعنت كی، ان میں سے آپ نماز کے قنوت میں بھی لعنت كرتے تھے۔ اگر آپ نے نماز جماعت میں بلند آواز سے نہ کیا ہوتا تو یہ مشہور نہ ہوتا ۔

امیر المومنین ، امام علی (علیہ السلام) اپنی ہر نماز میں مشہور دعا، دعائے صنمی قریش كے ذریعہ ابو بکر ، عمر ، عائشہ ، اور حفصہ پر لعنت كرتے تھے۔ (دعائوں پر مشتمل کتابیں ملاحظہ كریں ، جیسے کتاب المصباح از الکفعمی ، اور البلد الامین نیز المحتضر)۔

آپ کی اعلانیہ لعنت کی ایک اور مثال یہ ہے کہ جب ایک شخص نے آپ (علیہ السلام) کے پاس آكر كہا:

اپنا ہاتھ بڑھایں تاکہ میں آپ كی بیعت کروں“۔ آپ (علیہ السلام) نے سوال كیا: ”كس پر؟“ اس نے جواب دیا: ” ابوبكر و عمر كی سنت پر۔“ پھر آپ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور فرمایا: تیرے ہاتھوں كو بند كر! اللہ كی لعنت ہو ان دونوں پر! خدا كی قسم، اگر میں تیری جگہ ہوتا، تو فریب كی بنا پر مر گیا ہوتا۔
بصائر الدرجات از الصفار، صفحہ ٤١٢

ہمارے ہاں یہ مثال بھی ہے جو آپ (علیہ السلام) نے قیس بن اشعث سے فرمایا:

افسوس ہے تجھ پر یابن قیس! تو نے مجھے كیسا پایا جب عثمان مارا گیا اور میں نے لوگوں کی حمایت پائی؟ کیا تو نے مجھ سے بصرہ كی لڑائی کے دوران مجھ سے کوئی شکست ، یا بزدلی ، یا کوئی نقص دیکھا ، جبكہ وہ اپنے اونٹنی کو گھیر ہوئے تھے؟ لعنت ہے اس پر جو بھی اس كے ساتھ تھا! لعنت ہے اس پر جو اس کے اردگرد مارا گیا! لعنت ہے اس پر جو اس پر سوار ہو!
بحار الانوار، جلد ٢٩و صفحہ ٤٦٩

یہ مشہور ہے كہ عائشہ (لعنت اللہ علیہا) ہی اس اونٹنی پر سوار تھی۔

مزید یہ کہ ہمارے پاس مثال ہے جو کہ آپ علیہ السلام نے کہا ایک خط میں: جس میں انہوں نے عائشہ کی سختی سے تنقید کی اور اس پر تبررہ کیا ۔

ے حیا اور بدکار لوگ عائشہ سے راضی تھے۔ اہل بصرہ کی ایک بہت بڑی سنکھیا اس کے گرد ہلاک ہوئی تھی، اور خدا کا غضب اور عذاب کے سخت وار پڑا ان پر جو باقی بچے ان میں سے، اور وہ فرار ہوئے میدان جنگ سے۔ وہ ان پہ چٹان سے نکلنے والی اونٹنی کا اس سرزمین پر بھی زیادہ منہوس اور بری علامت ثابت ہوئی، گناہ کبیرہ کے ذریعہ سے جو اس نے کیا، خدا اور اس کے رسول کی اپنی ضد اور مخالفت کے ذریعہ سے اور اس کے فریب اور دھوکے سے مسلمانوں میں فتنہ پھیلا کر اور مومنین کے قتل سے، بغیر کسی واضح ثبوت کی اور نہ ہی کسی دلائل یا حجّت کو پیش کرکے اپنے فعل کو جائز ثابت کرنے کے لئے۔
بحارالانوار جلد ۳۲ صفحہ ۲۵۳

مزید یہ کہ ابوبکر ، عمر ، اور ابو عبیدہ بن جراح ، سقیفہ کے سب سے بڑے کردار تھے۔ حكومت میں ان کے منصب کے باوجود ، امیر المومنین (علیہ السلام) ان کے سامنے کھڑے ہوكر فرمایا:

”اے غداروں اور گستاخوں! اور اے غلیظ اور بدبودار نطفوں! اور اے حیوانوں جو اپنی مرضی كی راہ پر چلتا ہے
مستدرك نہج البلاغہ، جلد 1 ، صفحہ 284۔ کتاب کشف اللعالی كے حوالے سے نقل

دفتر شیخ الحبیب

The Office Of His Eminence Sheikh al-Habib