اللہ نے کیسے دو ذلیل لوگوں کو رسول اللہ کے ساتھ دفن ہونے دیا؟

اللہ نے کیسے دو ذلیل لوگوں کو رسول اللہ کے ساتھ دفن ہونے دیا؟

اللہ نے کیسے دو ذلیل لوگوں کو رسول اللہ کے ساتھ دفن ہونے دیا؟ 1920 1080 The Office Of His Eminence Sheikh al-Habib

سوال

اگر عمر اور ابوبکر کافر تھے تو اللہ اپنے نبی کے لئے یہ کیسے قبول کرسکتا کہ ابوبکر کو ان کے دائیں اور عمر ان کے بائیں طرف دفن کیا جائے؟ کیا اللہ‎ قرآن میں پیغمبر اکرم سے یہ نہیں کہا تھا:

اور تمہیں پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے
قرآن ٩٣:٦

مجھے بتائیے، کیا اللہ اپنے رسول سے راضی ہے کہ ١۴٠٠ سالوں سے زیادہ ان کے ساتھ دو (٢) کافر دفن ہوئے ہے، اور یہ کہ ان کی قبریں جہنم کی آگ کے گڑھے بن گئے ہیں؟

‏اَلسَّلَامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ:

علی


جواب

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، جو بڑا ہی مہربان، اور نہایت رحم کرنے والا ہے
درود و سلام ہو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہل بیت علیہم السلام پر، اللہ ان کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ان کے دشمنوں پر اللہ کا عتاب ہو.

پہلی بات: ان دو (٢)ملعونوں کا رسول اللہ کے ساتھ دفن ہونا اللہ سبحان وتعالی کے حکم سے نہیں تھا اور نہ ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے حکم سے اور نہ ہی ان کے جائز جانشین اور ان کے اہلبیت (علیہ السلام ) کی طرف سے۔ بلکہ یہ ناجائز حکومت کے حکم سے عمل میں آیا تھا ، لہذا ان کی تدفین زبردستی کی گئی، اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے پاس ان کا دفن ہونے ہی ان کی بدنامی اور رسول اللہ‎ کے اہلبیت کی خلاف ورزی کرنے کا واضح ثبوت ہے جو اپنے آپ میں ان کی بدقسمتی کا ثبوت ہے جنہوں نے نے ان کی حمایت کی۔

اے مومنوں پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے
قرآن ٣٣: ۵۴

اس بات پر بحث کرنا کہ عائشہ کی اجازت سے ہوا تھا ایک غلط اور مسترد دلیل ہے۔ ہم نے پہلے ہی ایک اور جواب میں واضح طور پر ثابت کردیا ہے کہ وہ پیغمبر کے گھر کی وارث نہیں تھی ن ہے اسے اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق تھا، کیونکی جائز طور سے اس گھر سے تعلق نہیں رکھتی ہے۔

دوسری بات: یہاں تک کہ اگر یہ تصور بھی کیا جائے کہ ان کی پست لاشیں رسول اللہ‎ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ساتھ دفن رہیں گی، اس سے رسول اللہ کی عظمت کو ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچتا۔ وہ اپنے آگ کے گڑوں میں رہیں گے،جب کہ وہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنت میں سب سے اونچے درجے پر ہوں گے۔ دعبل خزائی ایک مشہور شاعر اہلبیت اور صحابی تھے۔ ہارون الرشید(لعنت اللہ) کا حضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام کے قریب دفن ہونے کے متعلق بیان کرتے ہیں۔

شہر طوس میں دو قبریں ہے، ایک کائنات کے سب سے بہترین شخص کی قبر ہے اور دوسری بدترین شیطان صفت کی ہے۔ یہ سبق آموز درس ہے کہ نجس انسان کو پاک انسان کے قرب میں دفن کرنے سے فائدہ نہیں ملتا ہے ۔اسی طرح نجس انسان کو پاک انسان کے جوار میں دفن کرنے سے پاک انسان کو نقصان نہیں پہنچتا۔

تیسری بات: پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا جسم مبارک اب اس قبر میں موجود نہیں ہے۔ بلکہ اللہ (سبحان و تعالی) نے ان کے جسم مبارک کو جنت میں لیا ہے۔ اباعبداللہ الصادق (علیہ السلام) سے یہ سنا گیا ہے)

کسی بھی پیغمبر یا اس کے جانشین کی جسد خاکی مرنے کے بعد سواۓ تین دن سے زیادہ اس زمین پر نہیں رہتی، اللہ ان کی روح ان کا گوشت اور ہڑیاں جنت لے جاتا ہے۔
(کامل الزیارات، صفحہ ۵۴۴ اور الکافی، جلد ۴، صفحہ ۵٦٧)

چوتھی بات: ان دونوں (لعنت اللہ) کی لاشیں ان کی قبروں میں نہیں ہے۔ بلکہ فرشتوں نے ان کی لاشوں کو وادی برہوت میں لیا ہے جہاں ان کو سزا مل رہی ہے، رسول اللہ کے وفادار صحابی سلمان اور ابو ذر (رضی اللہ تعالی عنہ) کو ان کی جگہوں پر رکھا ہے۔ شیخ الطوسی (رحمۃ اللہ علیہ) صحیح سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہے کہ انہوں نے نے ابو بصیر سے سنا، جس نے کہا:

میں نے ابا عبد اللہ (علیہ السلام) کے ساتھ حج کیا۔ انہوں نے مدینے میں پھر اپنے جد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی قبر کی زیارت کی۔ پھر بنی یقظان سے ایک آدمی نے ان سے کہا۔ یابن رسول اللہ، وہ (یعنی لوگ) یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ یہاں ابوبکر اور عمر کی زیارت کو آتے ہیں۔ امام (علیہ السلام) نے فرمایا: اے یقظان کے بھائی کبھی نہیں، انہوں نے نے جھوٹ بولا ہے! اگر یہ ان کی قبریں کھودیں گے تو ان کو وہاں سلمان اور ابوذر ملیں گے۔کیونکہ اللہ کی قسم وہ دوسروں سے اس جگہ کے زیادہ حقدار ہیں۔ پھر میں نے (ابو بصیرنے) کہا: یا بن رسول اللہ‎ ایک مردے کو کیسے دوسری جگہ لے جایا جائےیا کسی اور کو اس کی جگہ رکھ دیا جائے؟ امام (علیہ السلام) نے فرمایا اے ابا محمّد، اللہ سبحانہ وتعالی نے ستر ہزار فرشتوں کو بنایا ہے جنہیں حاملون (ایک جگہ سو دوسرے جگہ لے جانے والے ) کہا جاتا ہے؛ وہ زمین کے مغربی اور مشرقی حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں، اور وہ مردہ گناہگاروں کو لے جاتے ہیں اور ہر ایک کو اسکی حیثیت کی بنا پر دفن کرتے ہیں اور وہ تابوت سے جسم کو نکالتے ہیں اور اس کی جگہ کسی کو خبر یا شک کئے بغیر رکھتے ہیں۔ یقینا یہ (حقیقت سے) دور نہیں ہے اور اللہ اپنے غلاموں کے لیے ناانصافی نہیں کرتا۔
نفس الرحمن فی فضائل سلمان از مرزا نوری صفحہ ٦٣٦

پانچوی بات: جب ہمارے امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) ظہور فرمائیں گے تو وہ ابوبکر اور عمر (لعنت اللہ علیھما) کو قبروں سے واپس نکالیں گے جب ان کو فرشتوں کے ذریعے ان کی اصل قبروں میں واپس لایا جائے گا۔ یہ اللہ کی طرف سے لوگوں کے لئے ایک معجزاتی امتحان ہوگا جیسے کہ ہم نے پچھلے اپنے جواب میں واضح کیا ہے۔

دفتر شیخ الحبیب

The Office Of His Eminence Sheikh al-Habib