قرآن کریم کی آیت ‘ ہر امت کے لئے ایک ہادی ہے’ کس طرح امامت الٰھی ثابت کرتی ہے.

قرآن کریم کی آیت ‘ ہر امت کے لئے ایک ہادی ہے’ کس طرح امامت الٰھی ثابت کرتی ہے.

قرآن کریم کی آیت ‘ ہر امت کے لئے ایک ہادی ہے’ کس طرح امامت الٰھی ثابت کرتی ہے. 1920 1080 The Office Of His Eminence Sheikh al-Habib

سوال

میں نے ایک وہابی سے مندرجہ ذیل آیت كے متعلق دریافت کیا

بیشک، آپ ڈرانے والا ہیں اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہے
قرآن ۱۳:۸

جس پر اس وہابی نے کہا کہ شیعہ اس آیتِ کریمہ کو بطورِ دلیل استعمال کرتے ہیں کہ ہر دور میں ایک معصوم‎ امام کا ہونا ضروری ہے۔

محترم شیخ، اس كے متعلق آپ كا كیا نظریہ ہے؟


جواب

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، جو بڑا ہی مہربان، اور نہایت رحم کرنے والا ہے .
درود و سلام ہو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہل بیت علیہم السلام پر، اللہ ان کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ان کے دشمنوں پر اللہ کا عتاب ہو.

جی ہاں، اس مبارک آیت کو امامت کی دلیل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ کسی بھی دور یا زمانے میں امامت منقطع نہیں ہو سکتی۔ یہ آیت واضح كرتی ہے کہ نبی كریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت کے لئے ایک ڈرانے والا اور پیغام پہنچانے والے ہیں، مزید یہ کہ ان کے بعد، ہر قوم اور نسل کے لئے، ایک ہادی ہے جو ان کی ہدایت اور رہنمائی کا فریضہ انجام دیگا اس پر جو بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لائیں، یہ شخص، آپ كے اہلبیت كے معصوم ائمہ (علیہم السلام) كے علاوہ اور كوئی نہیں ہو سكتا۔

یہ ہمارے ائمہ (علیہم السلام) کی روایات میں نقل ہوا ہے۔ محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ

میں نے ابو عبداﷲ الصادق(علیہ السلام) سے اﷲ(سبحانہ و تعالی) کے کلام كے متعلق سوال كیا:”بیشک، آپ ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہے ۔
قرآن ۱۳:۸

پھر آپؑ نے فرمایا:

ہر امام اپنے دور كے سب لوگوں كے لئے ہادی ہے

برید ابن معاویہ العجلی روایت كرتے ہیں كہ

میں نے ابو جعفر امام محمد باقر(علیہ السلام) سے:”بیشک، آپ ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہے” كے متعلق سوال كیا قرآن ۱۳:۸ آپؑ نے جواب دیا: ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ڈرانے والے ہیں، اور علی (علیہ السلام) ہادی ہیں، اور ہر دور اور زمانے میں ہم میں سے ایک امام ہے، جو ان (لوگوں) کی ہدایت کرتا ہے ان چیزوں كی طرف جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لائے
ملاحظہ كریں ابن بابویہ القمی كی الامامۃ والتبصرہ ، اور شیخ الصدوق کی کمال الدین

اس واضح اور غیر متشابہ آیت میں تبدیلی كا كوئی امكان باقی نہیں ہے۔ اور یہ حقیقت ہے كہ الہی قیادت برقرار اور مسلسل ہے اور ان کے ذہن میں سوال پیدا کرنے کے لئے كافی ہے كہ آج كے دور میں امت كا امام كون ہے جو كلام اللہ (عزوجل)كے حکم کے مطابق ان ذمہ داریوں كو قبول كرے۔ ایسا کون شخص ہے؟

اس آیت کی متشابہ انداز میں تفسیر کرنا اور یہ کہنا کہ اس سے مراد علماء ہیں بے بنیاد اور بے فائدہ ہے۔ کیوں کہ آیت کا جملہ کہ آپ ایک ڈرانے والے ہیں اس کے بعد والے جملے یعنی اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہے ، سے مربوط ہے۔ جو لوگ علم اللسان اور علم تفسیر سے واقف ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ ارتباط ثابت کرتا ہے کہ جس طرح ڈرانے ولے کا اللہ کی طرف سے منتخب ہونا لازمی ہے اسی طرح ہادی کا بھی اللہ کی طرف سے منتخب ہونا ضروری ہے۔ علماء دین اس آیت کی معانی اور مصداق سے خارج ہے کیوں کہ اللہ نے ان پر رسول ؐ کی طرح کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی ہے۔

انہیں اس آیت کریمہ پر غور کرنا چاہئیے تا کہ اللہ ان کی ہدایت کرے۔

دفتر شیخ الحبیب

The Office Of His Eminence Sheikh al-Habib